zone name","placement name","placement id","https://www.profitablegatecpm.com/yinz9x0234?key=619b5ed2e8a3dd910e0a5484c0e04be9" rawalpindistudio.com,Popunder_1,15390402,"" link text link text interesting iqtibas from novel in urdu

Ad Code

interesting iqtibas from novel in urdu

میں جب بھی کسی غریب رشتہ دار کے گھر جاتا ہوں - WHENEVER I GOTO A


Whenever I go to a poor relative's house..I call him before I leave..the poor man is happy..meat eater once a month. He brings a kilo of boneless meat for me .. 


میں جب بھی کسی غریب رشتہ دار کے گھر جاتا ہوں..جانے سے پہلے اسے فون کردیتا ہوں.. وہ بیچارہ خوش ہوجاتا ہے.. مہینے میں ایک بار گوشت کھانے والا

میرے لیے بغیر ہڈی کا ایک کلو گوشت لاتا ہے.. ستر روپے کلو والے "ٹوٹا" چاول کھانے والا ڈیڑھ سو روپے کلو والے چاول لاکر بریانی بناتا ہے.. اس کے بچے یہ

دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں کہ آج تو ہمیں بیف بریانی ملے گی.. پورے گھر کی صفائی ہوتی ہے.. تکیوں کے "غلاف" بدلے جاتے ہیں.. گھر میں موجود واحد صوفے

دو عدد کرسی اور ایک چھوٹی سی پرانی ٹیبل کو چمکایا جاتا ہے.. اس کی بیوی صندوق میں رکھا اپنے جہیز کا پندرہ سالہ پرانا ڈنر سیٹ نکالتی ہے.. بچوں کو

نہلا دھلا کر پچھلی عید کا سوٹ پہناکر تیار کیا جاتا ہے.. اس کی بیوی.. بچوں کا "گلک" توڑکر ان پیسوں کی کھیر بھی بناتی ہے.. رات آٹھ بجے میں

اپنی چمچاتی گاڑی میں سوار اس کچی آبادی کی کچی گلی میں داخل ہوتا ہوں.. اس کے بچے میرے انتظار میں دروازے

پر کھڑے ملتے ہیں.. بچوں کی آواز پر

وہ دونوں بھی میرا استقبال کرنے دروازے پر آجاتے ہیں.. میں رومال ناک پر رکھے بڑی "رعونت" سےگاڑی سے اترتا ہوں.. بچے محبت سے میرے قریب

آتے ہیں.. جنہیں میں ہاتھ کے اشارے سے روک دیتا ہوں.. ان کے سلام کا جواب گردن کے اشارے سے دیتا گھر میں داخل ہوجاتا ہوں.. اور صوفے پر

ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ جاتا ہوں.. بچے چارپائی جس پر چادر بچھی ہوتی ہے اس پر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ دونوں کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں.. اس وقت

مجھے اپنے اندر ایک "کمینی" سی خوشی کا احساس ہوتا ہے

گردن میں "سریا" آجاتا ہے.. کمر اکڑ جاتی ہے اور چھاتی چوڑی ہوجاتی ہے.. ان کی ہر بات

کا جواب "ہوں ہاں" میں دیتا ہوں..اس وقت مجھے اپنے اندر

ایک مغل شہنشاہ محسوس ہوتا ہے.. اور وہ سب درباری..

اسی "اکڑ" کے نشے میں وقت کا

پتہ ہی نہیں چلا.. دو گھنٹے ہوچکے تھے.. بچے بار بار مجھے

عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے.. لیکن میں اپنی "اکڑ" کے نشے میں دھت اپنی بڑائی کے قصے

سنانے میں "مست" تھا..مزید ایک گھنٹے بعد اس کا چھ سالہ بچہ آنکھیں "مسلتا" ہوا اپنی امی سے بڑی معصومیت سے بولتا ہے.. امی مجھے بہت زوروں کی نیند

آرہی ہے.. اب تو کھانا لگادیجیے.. اس معصوم بچے کی بات سن کر میں اپنے قصے سنانا بند کردیتا ہوں.. اس کی بیوی دسترخوان بچھاتی ہے.. بچوں کے چہرے

خوشی سے کھل جاتے ہیں.. اس کی بیوی پہلے میرے آگے ڈش رکھتی ہے.. میں چاول کم بوٹیاں زیادہ نکالتا ہوں..اور تین پلیٹ بریانی کھاکر لمبی سی "ڈکار"

لیتا ہوں.. کھانے کے بعد بڑا بچہ محلے کی دکان سے کوڈرنک کی ایک بوتل لاکر مجھے پیش کرتا ہے.. جسے میں بچوں کی طرف دیکھے بغیر "غٹ" سے معدے میں

اتارلیتا ہوں.. اور یوں اس غریب کا مال کھاکر واپسی میں اس کے بچوں کو پچاس پچاس روپے دے کر ان پر احسان عظیم کرتے

ہوئے واپس آجاتا ہوں..


Post a Comment

0 Comments

Rawalpindi Studio Youtbe Channel

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();