zone name","placement name","placement id","https://www.profitablegatecpm.com/yinz9x0234?key=619b5ed2e8a3dd910e0a5484c0e04be9" rawalpindistudio.com,Popunder_1,15390402,"" link text link text ( zarbe kaleem ) ilm-o-ishq allama iqbal lyrics in urdu language | allama iqbal poetry with tashreeh in urdu

Ad Code

( zarbe kaleem ) ilm-o-ishq allama iqbal lyrics in urdu language | allama iqbal poetry with tashreeh in urdu

 


ضربِ کلیم

۔           _____________________


            پہلا حصہ اسلام اور مُسلمان 

۔           _____________________


۔                  عِلم و عشق

۔           ____________________-


۔                                 (1)

عِلم نے مُجھ سے کہا عشق  ہے  دیوانہ  پن!

عشق نے مُجھ سے کہا عِلم ہے تخمین و ظن!

بندۂ  تخمین  و  ظن!  کرمِ  کتابی   نہ   بن!

                      عشق سراپا حُضور،  علم  سراپا  حجاب


۔                                 (2)

عشق  کی  گرمی سے  ہے  معرکۂ  کائنات!

عِلم  مقامِ  صفات،   عشق   تماشاۓ   ذات!

عشق سکون و ثبات، عشق  حیات و ممات

                      علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب!


۔                                 (3)

عشق کے ہیں معجزات، سلطنت و فقرودیں!

عشق کے  ادنے  غلام  صاحبِ  تاج و نگیں!

عشق  مکان و مکیں! عشق  زمان  و  زمیں!

                      عشق  سراپا  یقیں،  اور  یقیں  فتح  باب!


۔                                 (4)

شرعِ  مُحبت  میں  ہے  عشرتِ  منزل  حرام

شورشِ  طوفاں  حلال،  لذتِ  ساحل   حرام

عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ ساحل حرام

                       علم ہے  ابن الکتاب،  عشق ہے اُم الکتاب!

۔_________________________________________


کائنات کی ہر شے بمعہ وجودِ آدم تخلیق ہے اور پوری کائنات کی ہر تخلیق میں آدم کی ساخت کائنات کے سردار کے مطابق ہے۔

آدم کے علاوہ ہر تخلیق اپنی صفت کے مطابق ہی حرکات و سکنات کرتی ہے، اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتی۔

وجودِ آدم کے لیے "آدم صفی اُللہ" فرمایا گیا یعنی ایسی تخلیق کہ جس میں اللہ کی صفات ہیں۔ جن کو اُجاگر کرنے سے یہ کائنات کی سرداری کے مقام پر آ سکتا ہے ورنہ (حیوانِ ناطق) باتیں کرنے والا جانور ہے اور جانور سے مراد یہ ہے کہ تخلیق میں تو ذرا بربر بھی فرق نہیں لیکن سوچ اور ارادے میں فتور آنے کی وجہ سے صرف صورتِ آدم تو ہے لیکن صفات ضرر رساں ہونے کی وجہ سے اُس جانور یا درندے کی طرح ہے کہ جس درندے کی یہ صفات ہوں فرق صرف یہ ہے کہ درندہ باتیں نہیں کرتا اور آدم باتیں کر لیتا ہے۔ 

جانوروں میں پیدائشی درندے اپنی نسل کا شکار نہیں کرتے لیکن جب آدم خود سے بھاگ کر درندگی اپنا لے تو یہ اپنے (یعنی اپنے جیسے آدم) کو چیرنا پھاڑنا شروع کر دیتا ہے جس کا عروج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

آدم کے وجود میں انسان بننے کے لیے اہلیت رکھی گئی ہے، لفظ انسان "انس" سے ہے جس کا معنی مُحبت ہے اگر غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مُحبت ہی مُحبت کو چیرنے پھاڑنے کا کام شروع کر دے۔

صاف ظاہر ہے کہ مُحبت کے مقام سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے ایسا سر زد ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے آدم اپنے آپ کا دُشمن بنا ہوا ہے۔ 

ابنِ آدم کی تخلیق کی بُنیاد "عشق" ہے، عشق نے آدم تک خبریں پہنچاہیں جہاں سے خبروں کی آمد ہوئی وہ "عشق" ہے خبریں سُننے والے کا سفر خبریں دینے والے مقام (عشق) کی جانب ہو تو سلامتی ہے۔

جب تک علم تصدیق حاصل نہ کرے تب تک ایسا علم ابنِ آدم کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے اور اگر تصدیق کرے تو سوائے عشق کے کُچھ برآمد نہیں ہے اور یہی مقامِ امن اور مُحبت ہے۔

علم تب تک صرف ظن و تخمین ہے اور فساد پھلاتا ہے جب تک عشق سے رہنمائی نہ لے۔ 


۔                                 (1)


علم نے مُجھ (ابنِ آدم) سے کہا کہ یہ عشق کی بات دیوانہ پن ہے لیکن عشق نے مُجھے سمجھایا کہ علم کے الفاظ اور حروف میں تو نقص نہیں ہے لیکن علم چونک صرف خبر ہے اور خبر صرف سُنی جا سکتی ہے دیکھی نہیں جا سکتی، اس لیے خبروں تک محدود سچا علم بھی صرف اندازے لگانا اور شک و شبہ پر قائم ہونا ہے تا آنکہ خبر میں دی گئی اطلاع کو آنکھوں سے دیکھ کر اور دل سے تصدیق حاصل نہ کی جائے۔ عشق فرماتا ہے کہ اے کتابوں کا کیڑا بن کر رہ جانے والے اور کتابوں کے حروف سے عشق کی مدد لیے بغیر شک کی بُنیاد پر اندازے لگانے والے اس کیفیت سے باہر نکل، کتابوں کا کیڑا نہ بن بلکہ کتاب کے اندر حقیقت کی دی گئی خبروں کو آنکھوں سے دیکھنے اور ضمیر سے تصدیق کے لیے عشق کی مدد حاصل کر۔

(اقبال رح نے مردِ کامل سے رہنمائی لینا کو عشق کی رہنمائی فرمایا ہے۔)

جب تُو عشق سے مدد حاصل کرے گا تو تُجھ پر سے حجاب کا پردہ اُٹھ جائے گا اور تُو پوشیدہ سے حاضر میں بدل جائے گا، کتابوں کا علم صرف خبریں ہیں خبروں تک محدود کُچھ حاصل نہ ہونا کے برابر ہے جبکہ عشق کے ذریعے مدد لینا اپنی گُمشدگی کو پا لینا ہے۔ گُمشدگی کے دوران کی جانے والی سب کوششیں رائیگاں ہیں کیونکہ وہ آدم کو انسان بنانے کے اہل نہیں ہیں۔


۔                           (2)


عشق (مردِ کامل) کی رہنمائی ہی سے ابنِ آدم کائنات کے معرکہ کو سر کر سکتا ہے، جب تک رہنمائی نصیب نہیں ہوتی تب تک "کائنات" کو کُچھ اور ہی معنی پہنائے جاتے ہیں جبکہ حقیقی کائنات ابنِ آدم کا اپنا وجود ہی ہے۔ انسانی وجود کو "مجموعۂ کائنات" فرمایا گیا ہے۔

عشق کے ذریعے ذاتِ حق ابنِ آدم سے فرما رہی ہے کہ "میں تمہاری رگِ جان سے بھی قریب ہوں، میں تمہاری سانوں میں موجود ہوں، میں وہاں موجود ہوں جہاں سے تمہارے ارادے اُٹھتے ہیں"

اس کے مقابلے میں علم شک و شبہ میں پڑ کر قادر ذات کو خود سے الگ اور دُور خیال کرتا ہے جس کی وجہ سے بد نظمی بے انصافی اور خون خرابہ پیدا ہوتا ہے، وحدتِ آدم کی نشانیوں کی طرف دھیان ہی نہیں رہتا۔ اگر وجودِ آدم کو "ایک ہی نفس" سے ظاہر ہونے کی تصدیق حاصل ہو تو یہ دُنیا اُسی وقت جہنم سے جنت میں تبدیل ہو جائے۔

علم صرف صفات تک محدود ہے آگے نہیں بڑھتا اور آگر آگے بڑھے تو جس کی صفات ہیں وہ خود پردے سے باہر آ جائے گا پھر "شک" کا خاتمہ ہو جائے اور ابنِ آدم میں یکتائی آ جائے گی یہی تماشائے ذات ہے۔

عشق کی رہنمائی اور رہنمائی کے مطابق معاشرے کی تعمیر کا نتیجہ! ابنِ آدم نفی سے آگے بڑھ کر خود کو اثبات اور سکون میں داخل کر سکتا ہے، عشق زندگی سے آگاہ کرنے والا اور شک پر موت برپا کرنے والا ہے۔

حروف اور الفاظ کے ذریعے خبروں تک محدود علم کے اندر سوالات ہی سوالات اُٹھتے رہتے ہیں لیکن علم کے پاس ان سوالوں کے جوابات نہیں ہوتے، اگر ابنِ آدم عشق (خود شناسی) حاصل کرے تو علم کے تمام سوالوں کے جوابات اس کے اپنے اندر ہی سے مل جاتے ہیں۔


۔                           (3)


عشق کے معجزات وہ ہیں کہ جو عقل و کوشش کے ذریعے ہاتھ نہیں آ سکتے لیکن عشق کے ارادے سے وجود میں آ جاتے ظاہر میں اسباب پر نظر جاتی ہے لیکن حقیقت میں یہ عشق کے فیصلے ہوتے ہیں جو ظہور پذیر ہوتے ہیں، جیسا کہ ہم فطرت کی بُنیاد پر سلطنت اور فقر اور دین کی صورت دیکھ چُکے ہیں۔ 

پھر یہ بھی ہمارے سامنے ثبوت ہیں کہ مادی طاقت کے باوجود بھی بادشاہی کا تاج پہننے والے اور بادشاہی کی طاقت رکھنے والے بھی عشق سے اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے عشق کی مدد کے خواستگار بنے ہیں۔ یعنی عشق کے سامنے بادشاہی بھی معمولی کیڑے کی مانند ہے۔

عشق خود ہی ظاہر ہے عشق نے اپنے لیے صورتِ آدم کو گھر بنایا، عشق خود ہی وقت ہے اور خود ہی وقت کے لمحے ہے۔ عشق خود ہی مکان ہے اور خود ہے مکان میں مقیم ہے۔

جب آدم عشق پر ایمان اور یقین لا کر اپنے کام آگے بڑھائے تو بند دروازے کُھلتے جاتے ہیں۔


۔                           (4)

(اقبال رح نے اپنے فارسی کلام میں ایک جگہ فرمایا کہ!

 "مُحبت کی شرع حروف اور الفاظ میں بیان نہیں ہو

سکتی، اگر شرع بیان کرنے کی کوشش کی جاۓ تو

حروف اور الفاظ مُحبت کی شرع کو اور زیادہ پیچیدہ

 بنا دیتے ہیں."


مُحبت کی شرع میں ایک جگہ پر رُک جانا اور سفر کو ختم کر دینا حرام قرار فرمایا گیا ہے، اگر عشق سے رہنمائی حاصل کر کے آدم سے انسان ہونے کے دائرے میں داخل ہوا جائے تو تب ہی انسانی معاشرہ وقوع پذیر ہونا ممکن ہے ورنہ صورتِ انسان میں جانوروں سے بد تر معاشرہ سامنے آتا ہے دولت کے انبار اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں کی تربیت مادی زندگی کے فوائد کے لیے ہُنر تو سکھا سکتے ہے ہیں لیکن انسان بنانے کی تربیت سے محروم ہیں۔ 

ابنِ آدم کو انسان بننے کے لیے عشق کے مدرسے کی خدمات حاصل کرنا اولین شرط ہے، عشق کی تربیت سے ہی مُحبت کی کُنّہ سمجھی جا سکتی ہے لیکن بیان نہیں کی جا سکتی۔ 

مُحبت کی شرع میں مسلمان کا کسی مقام پر رُک جانا، جیسا کہ خلافتِ راشدہ کے دور کے بعد ابھی تک مسلسل رُک جانے کے مقام پر ہے، اس رکے ہوئے سفر کو پھر سے شروع کرنے کے لیے صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے کہ "عشق" سے سیکھ کر از سرِ نو سفر شروع کیا جائے یہی عشق کا سفر ہے۔ عشق کی بُنیاد کا سفر ہی مُحبت کا سفر ہے جس کے ذریعے ابنِ آدم امن میں داخل ہو سکتا ہے، مُحبت کے سفر میں نئے نئے طوفان (جدت) اُٹھتے ہیں، مُحبت کا سفر آگے سے آگے ہے رُکنے والا اور منزل کرنے والا نہیں ہے،

عشق پرانی چیزوں کو مٹا دیتا ہے اور نئی شان کے ساتھ نمودار ہوتا ہے، "ہر ہر لمحے نئی شان کے ساتھ جلوہ گری ہو رہی ہے" جو پرانی چیزوں کو بکھیر دیتی ہے اور نئی شان سامنے لاتی ہے۔ عشق کسی ایک چیز پر مطمئن نہیں،عشق پرانی چیزوں کو مٹا دیتا ہے اور نئی شان کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔

علم کتاب کا بیٹا ہے اور عشق اُم الکتاب ہے۔ قرآنِ حکیم کے اس حکمت والے فرمان کو عشق کی مدد لے کر سیکھا جائے تو پوشیدہ کا ظاہر ہو جانا ناممکن نہیں رہتا۔ 

"میں چُھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو خلق کیا تا کہ میری عبادت کریں اور پہچانیں"

فخر کردہ حجازی فقر کی مدد حاصل کیے بغیر اس راہ کو پانا ناممکن ہے۔

              ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ  فقر

              جس فقر کی اصل ہے حجازی



allama iqbal poetry in urdu for youth allama iqbal poetry in urdu for youth pdf iqbal message to youth in english iqbal message to youth urdu translation allama iqbal poetry with explanation in urdu allama iqbal poetry with tashreeh in urdu allama iqbal poetry ilm or ishq with tashreeh in urdu

Post a Comment

0 Comments

Rawalpindi Studio Youtbe Channel

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();